غزل
शश-जिहत से इस में ज़ालिम बू-ए-ख़ूँ की राह है
शश-जिहत से इस में ज़ालिम बू-ए-ख़ूँ की राह है
یہ غزل ایک گہرے درد اور جدوجہد کا اظہار کرتی ہے، جس میں زندگی کی ہر سمت میں ایک ظالم اور خونِ رس و غل کی بو محسوس ہوتی ہے۔ یہ محبت کے کرب، ٹوٹے دل، اور زندگی کے بوجھ کو پیش کرتی ہے، جہاں ہر قدم پر ایک نامعلوم جدوجہد موجود ہے۔
نغمہ سنیں
1
शश-जिहत से इस में ज़ालिम बू-ए-ख़ूँ की राह है
तेरा कूचा हम से तू कह किस की बिस्मिल-गाह है
شش جہت سے اس میں ظالم بوئے خوں کی راہ ہے
تیرا کوچہ ہم سے تو کہہ کس کی بسمل گاہ ہے
شَش-جِہَت سے اِس میں ظالم بو-ے-خون کی راہ ہے، تیرا کوچہ ہم سے تو کہہ کس کی بَسمِل-گاہ ہے۔ اس کا لغوی مطلب ہے کہ تمہاری فضل کی سمت سے بھی ظالم خون کی خوشبو کا راستہ ہے؛ ہمیں بتاؤ کہ تمہارا راستہ کس یادگار مقام سے जुड़ा है۔
2
एक निभने का नहीं मिज़्गाँ तलक बोझल हैं सब
कारवाँ लख़्त-ए-दिल-ए-हर-अश्क के हमराह है
ایک نبھنے کا نہیں مژگاں تلک بوجھل ہیں سب
کارواں لخت دل ہر اشک کے ہم راہ ہے
ایک نبھنے کا نہیں مِزگاں تَلک بوجھل ہیں سب؛ ہمارا کارواں، جو دل کا راستہ ہے، ہر اَشک کے ہمراہ ہے۔
3
हम जवानों को न छोड़ा उस से सब पकड़े गए
ये दो-साला दुख़्तर-ए-रज़ किस क़दर शत्ताह है
ہم جوانوں کو نہ چھوڑا اس سے سب پکڑے گئے
یہ دو سالہ دختر رز کس قدر شتاہ ہے
ہم جوانوں کو نہ چھوڑا اس سے سب پکڑے گئے۔ یہ دو سالا دکھترِ رَز کس قدر شتّاح ہے।
4
पा-बरहना ख़ाक सर में मू परेशाँ सीना चाक
हाल मेरा देखने आ तेरे ही दिल-ख़्वाह है
پا برہنہ خاک سر میں مو پریشاں سینہ چاک
حال میرا دیکھنے آ تیرے ہی دل خواہ ہے
پا-برہنا خاک سر میں، مو پرے شان سینہ چاک، حال میرا دیکھنے آ تیرے ہی دل-خواہ ہے۔ (مطلب: میرے بال دھول سے سجے ہیں، میرے سینے میں بے چینی ہے، اور میں نے اپنی یہ حالت تیرے ہی دل-خواہ میں دیکھ لینے آ گیا ہوں۔)
5
इस जुनूँ पर 'मीर' कोई भी फिरे है शहर में
जादा-ए-सहरा से कर साज़िश जो तुझ से राह है
اس جنوں پر میرؔ کوئی بھی پھرے ہے شہر میں
جادۂ صحرا سے کر سازش جو تجھ سے راہ ہے
اس جنون پر 'میر' کہتے ہیں کہ شہر میں جو بھی گھومے، جاदा-ए-سہرا سے تجھ تک جانے کے راستے میں کیا سازش ہے؟
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
