غزل

दुज़्दीदा निगह करना फिर आँख मिलाना भी

दुज़्दीदा निगह करना फिर आँख मिलाना भी
میر تقی میر· Ghazal· 5 shers

یہ غزل ایک پیچیدہ اور متضاد محبت کی حالت کو بیان کرتی ہے، جہاں محبوب سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنی نفی و تنفر (دُزدیٰدہ نگاہ) کے بعد بھی آنکھیں ملا سکے اور اس لوٹتے ہوئے دامن کو اٹھا سکے۔ یہ محبت کی منوچھی، دکھاوا، اور جذباتی الجھن کو پیش کرتی ہے، جہاں سادہ دکھاوے کے ساتھ ساتھ جذباتی اذیت اور پردے کے پیچھے کا مظاہرہ بھی ضروری ہے۔

نغمہ سنیں

شعر بہ شعر معنی

رسم الخط
1
दुज़्दीदा निगह करना फिर आँख मिलाना भी इस लौटते दामन को पास आ के उठाना भी
دزدیدہ نگہ کرنا پھر آنکھ ملانا بھی اس لوٹتے دامن کو پاس آ کے اٹھانا بھی
دُژدیدے نگاہ کرنا پھر آنکھ ملانا بھی، اِس لوٹتے دامن کو پاس آ کے اٹھانا بھی۔
2
पामाली-ए-आशिक़ को मंज़ूर रखे जाना फिर चाल कढब चलना ठोकर न लगाना भी
پامالی عاشق کو منظور رکھے جانا پھر چال کڈھب چلنا ٹھوکر نہ لگانا بھی
اگر عاشق کی منمانی کو قابلِ قبول رکھنا ہے، تو چلن و چال میں بھی احتیاط برتنی پڑے گی، ورنہ ठोकर لگ سکتی ہے۔
3
बुर्क़ा को उठा देना पर आधे ही चेहरे से क्या मुँह को छुपाना भी कुछ झमकी दिखाना भी
برقع کو اٹھا دینا پر آدھے ہی چہرے سے کیا منہ کو چھپانا بھی کچھ جھمکی دکھانا بھی
بُرقعہ اٹھا دینے پر بھی، آدھے چہرے سے کیا چھپانا یا کیا چمک دکھانا باقی ہے۔
4
देख आँखें मिरी नीची इक मारना पत्थर भी ज़ाहिर में सताना भी पर्दे में जताना भी
دیکھ آنکھیں مری نیچی اک مارنا پتھر بھی ظاہر میں ستانا بھی پردے میں جتانا بھی
دیکھ، میری آنکھیں نیچی ہیں، چاہے پتھر سے مارا جائے، یا ظاہر میں ستایا جائے، یا پردے میں دکھایا جائے۔
5
सोहबत है ये वैसी ही ऐ जान की आसाइश साथ आन के सोना भी फिर मुँह को छुपाना भी
صحبت ہے یہ ویسی ہی اے جان کی آسائش ساتھ آن کے سونا بھی پھر منہ کو چھپانا بھی
یہ صحبت ویسی ہی ہے اے جان کی آشیش۔ ساتھ آنے سے سونا بھی اور منہ کو چھپانا بھی۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.