غزل

एक पर्वाज़ को भी रुख़्सत-ए-सय्याद नहीं

एक पर्वाज़ को भी रुख़्सत-ए-सय्याद नहीं
میر تقی میر· Ghazal· 6 shers

یہ غزل بتاتی ہے کہ کسی بھی پرواز یا کوشش کو بھی محبوب کے رخصت ہونے (रुख़्सت-ए-سیاض) جیسا نہیں سمجھا جا سکتا، کیونکہ یہ پنجرہ سونے یا فولاد کا نہیں ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ چاہے وہ غم کی گہرائی (تہ-ئے-خاک) تک پہنچ جائے، لیکن یہ دنیا اتنی آزاد ہے کہ اسے محض 'ایجاد' نہیں کہا جا سکتا۔ آخر میں، وہ کہتا ہے کہ وہ اپنے 'سیاض' سے معافی مانگ سکتا ہے، مگر میرے درد کی طاقت (فریاد) کو زوصف سے نہیں کہا جا سکتا۔

نغمہ سنیں

شعر بہ شعر معنی

رسم الخط
1
एक पर्वाज़ को भी रुख़्सत-ए-सय्याद नहीं वर्ना ये कुंज-ए-क़फ़स बैज़ा-ए-फ़ौलाद नहीं
ایک پرواز کو بھی رخصت صیاد نہیں ورنہ یہ کنج قفس بیضۂ فولاد نہیں
ایک شاعر کو بھی رخصتِ سیّاد نہیں ہے، ورنہ یہ کنجِ قفس بَےज़ाِ فولاد نہیں ہے۔
2
शैख़-ए-उज़्लत तो तह-ए-ख़ाक भी पहुँचेगी बहम मुफ़्त है सैर कि ये आलम-ए-ईजाद नहीं
شیخ عزلت تو تہ خاک بھی پہنچے گی بہم مفت ہے سیر کہ یہ عالم ایجاد نہیں
شیخِ عزلت تو تہِ خاک بھی پہنچے گی بہم۔ مُفت ہے سیر کہ یہ عالمِ ایجاد نہیں। (معنی: جو تنہائی کا ماہر ہے، وہ تو مٹی کے نیچے بھی پہنچ جائے گا۔ یہ گھومنا مفت ہے، یہ دنیا کی تخلیق نہیں ہے۔)
3
दाद ले छोड़ूँ मैं सय्याद से अपनी लेकिन ज़ोफ़ से मेरे तईं ताक़त-ए-फ़रयाद नहीं
داد لے چھوڑوں میں صیاد سے اپنی لیکن ضعف سے میرے تئیں طاقت فریاد نہیں
اگرچہ میں اپنی محبوبہ کو سیّاد کے حوالے کر رہی ہوں، لیکن زوف سے مجھے فریاد کی کوئی طاقت نہیں ہے۔
4
क्यूँ ही मा'ज़ूर भी रख यूँ तो समझ दिल में शैख़ ये क़दह-ख़्वार मिरे क़ाबिल-ए-इरशाद नहीं
کیوں ہی معذور بھی رکھ یوں تو سمجھ دل میں شیخ یہ قدح خوار مرے قابل ارشاد نہیں
اے شیخ، تم دل میں معذرت کیوں رکھتے ہو؟ سمجھ لو کہ یہ شراب پینے والا تمہاری رہنمائی کے قابل نہیں ہے۔
5
बे-सुतूँ भी है वही और वही जू-ए-शीर था नमक शोहरत-ए-शीरीं का सो फ़रहाद नहीं
بے ستوں بھی ہے وہی اور وہی جوئے شیر تھا نمک شہرت شیریں کا سو فرہاد نہیں
وہ اپنی بے سُو تُن حالت میں بھی وہی ہے، اور وہی دودھیا شیر کے ساتھ؛ مگر شہرت کی شیرینی کا نمک فرہاد کے لیے نہیں تھا۔
6
क्या कहूँ 'मीर' फ़रामोश किया उन ने तुझे मैं तो तक़रीब भी की पर तू उसे याद नहीं
کیا کہوں میرؔ فراموش کیا ان نے تجھے میں تو تقریب بھی کی پر تو اسے یاد نہیں
کیا کہوں 'میر'، انہوں نے تجھے فراموش کیا؛ میں نے تو تقریب بھی کی، پر تو اسے یاد نہیں فیر۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.