غزل

क्या करूँ शरह ख़स्ता-जानी की

क्या करूँ शरह ख़स्ता-जानी की
میر تقی میر· Ghazal· 6 shers

یہ غزل زندگی کی فانیت اور محبت کے درد کو بیان کرتی ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ وہ مرنے اور زندہ رہنے کے تجربات سے گزر چکا ہے، لیکن اس کی اداس باتیں بے معنی ہیں۔ وہ مانتا ہے کہ سب کو گزرنا ہے، مگر تیری جوانی کا صبر سب سے بڑا چیلنج ہے۔

نغمہ سنیں

شعر بہ شعر معنی

رسم الخط
1
क्या करूँ शरह ख़स्ता-जानी की मैं ने मर मर के ज़िंदगानी की
کیا کروں شرح خستہ جانی کی میں نے مر مر کے زندگانی کی
کیا کروں شرہ خستہ-جانی کی، میں نے مر مر کے زندگانی کی।
2
हाल-ए-बद गुफ़्तनी नहीं मेरा तुम ने पूछा तो मेहरबानी की
حال بد گفتنی نہیں میرا تم نے پوچھا تو مہربانی کی
حالِ-ए-بد گفتنی نہیں میرا، تم نے پوچھا تو مہربانی کی ۔ اس کا مطلب ہے کہ میری حالت عام بات چیت کے لیے نہیں ہے؛ آپ نے پوچھا، تو یہ میرے لیے ایک احسان ہے۔
3
सब को जाना है यूँ तो पर ऐ सब्र आती है इक तिरी जवानी की
سب کو جانا ہے یوں تو پر اے صبر آتی ہے اک تری جوانی کی
سب کو جانا ہے یوں تو، پر اے صبر، آتی ہے اک تیری جوانی کی۔ (مطلب: اگرچہ سب کو کہیں جانا ہے، لیکن اے صبر، تیری جوانی کا آنا ہوتا ہے۔)
4
तिश्ना-लब मर गए तिरे आशिक़ न मिली एक बूँद पानी की
تشنہ لب مر گئے ترے عاشق نہ ملی ایک بوند پانی کی
میرے پیاسے لب مر گئے تیرے عاشق، نہ ملی ایک بوند پانی کی
5
बैत-बहसी समझ के कर बुलबुल धूम है मेरी ख़ुश-ज़बानी की
بیت بحثی سمجھ کے کر بلبل دھوم ہے میری خوش زبانی کی
بلبل نے، سمجھ بوجھ کے بات کرتے ہوئے کہا، 'میری خوش زبانی کا ایک بڑا رنگ ہے۔'
6
जिस से खोई थी नींद 'मीर' ने कल इब्तिदा फिर वही कहानी की
جس سے کھوئی تھی نیند میرؔ نے کل ابتدا پھر وہی کہانی کی
جس چیز سے میر نے کل نیند کھوئی تھی، اسی سے پھر کہانی کا آغاز ہو گیا۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.