غزل
जिस जगह दौर-ए-जाम होता है
जिस जगह दौर-ए-जाम होता है
یہ غزل جام کے دورِ جام کے ماحول کا بیان کرتی ہے، جہاں ہر چیز کی فانی اور عارضی ہونے پر زور دیا گیا ہے۔ اس میں عاشقوں کی زندگی اور جذبات کے چکر کو بھی چھوا گیا ہے، اور یہ اشارہ کیا گیا ہے کہ ان کا وقت بھی گزر جاتا ہے۔
نغمہ سنیں
1
जिस जगह दौर-ए-जाम होता है
वाँ ये आजिज़ मुदाम होता है
جس جگہ دور جام ہوتا ہے
واں یہ عاجز مدام ہوتا ہے
جہاں جام کا دور ہوتا ہے، وہ جگہ آج عاجز و مدام ہو جاتی ہے۔
2
हम तो इक हर्फ़ के नहीं मम्नून
कैसा ख़त्त-ओ-पयाम होता है
ہم تو اک حرف کے نہیں ممنون
کیسا خط و پیام ہوتا ہے
ہم تو اک حرف کے نہیں مطمئن، کیسا خط و پیغام ہے۔
3
तेग़ नाकामों पे न हर दम खींच
इक करिश्मे में काम होता है
تیغ ناکاموں پہ نہ ہر دم کھینچ
اک کرشمے میں کام ہوتا ہے
شاعر کہہ رہا ہے کہ ناکاموں کے پیچھا ہر دم نہیں کیا جا سکتا؛ ایک کرشمے سے کام ہو جاتا ہے۔
4
पूछ मत आह आशिक़ों की मआश
रोज़ उन का भी शाम होता है
پوچھ مت آہ عاشقوں کی معاش
روز ان کا بھی شام ہوتا ہے
عاشقوں کی آرزاق کے بارے میں نہ پوچھو، کیونکہ ان کا بھی ایک وقت گزر جاتا ہے۔
5
ज़ख़्म बिन ग़म बिन और ग़ुस्सा बिन
अपना खाना हराम होता है
زخم بن غم بن اور غصہ بن
اپنا کھانا حرام ہوتا ہے
زخم، غم اور غصے کے بغیر، اپنا کھانا بھی حرام ہو جاتا ہے۔
6
शैख़ की सी ही शक्ल है शैतान
जिस पे शब एहतेलाम होता है
شیخ کی سی ہی شکل ہے شیطان
جس پہ شب احتلام ہوتا ہے
شیطان کا چہرہ ایک شیخ جیسا ہے، جس پر شب خواب آتا ہے۔
7
क़त्ल को मैं कहा तो उठ बोला
आज कल सुब्ह-ओ-शाम होता है
قتل کو میں کہا تو اٹھ بولا
آج کل صبح و شام ہوتا ہے
جب میں نے قتل کی بات کی، تو اُٹھ نے کہا، 'آج کل صبح و شام ہوتا ہے۔'
8
आख़िर आऊँगा ना'श पर अब आह
कि ये आशिक़ तमाम होता है
آخر آؤں گا نعش پر اب آہ
کہ یہ عاشق تمام ہوتا ہے
آخر کار میں محفل میں آؤں گا، آہ، یہ عاشق تمام ہو چکا ہے۔
9
'मीर' साहब भी उस के हाँ थे पर
जैसे कोई ग़ुलाम होता है
میرؔ صاحب بھی اس کے ہاں تھے پر
جیسے کوئی غلام ہوتا ہے
میر صاحب بھی اس کے حامی تھے، مگر وہ ایک غلام کی طرح ہے۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
