غزل
है ग़ज़ल 'मीर' ये 'शिफ़ाई' की
है ग़ज़ल 'मीर' ये 'शिफ़ाई' की
یہ غزل 'میر' کی ہے جو 'شفائی' کے لیے لکھی گئی ہے۔ اس میں شاعر نے اپنی شدید جذباتی کیفیت اور فلسفیانہ خیالات کا اظہار کیا ہے۔ نظم میں زندگی کے دکھ، وعدوں کے ٹوٹنے اور جدائی کے غم کا ذکر ہے۔ شاعر نے وصال کی آرزو اور تقدیر کی تلخی پر غور کیا ہے۔
نغمہ سنیں
1
है ग़ज़ल 'मीर' ये 'शिफ़ाई' की
हम ने भी तब्अ-आज़माई की
ہے غزل میرؔ یہ شفائیؔ کی
ہم نے بھی طبع آزمائی کی
یہ غزل 'میر' یہ 'شفائی' کی، ہم نے بھی طبعآزمائی کی. اس کا سادہ مطلب ہے کہ میں نے بھی اس غزل یا اس 'شفائی' کو صبر اور آزمائش سے گزارا ہے۔
2
उस के ईफ़ा-ए-अहद तक न जिए
उम्र ने हम से बेवफ़ाई की
اس کے ایفائے عہد تک نہ جیے
عمر نے ہم سے بے وفائی کی
میں اس کے ایفاۓ عہد تک نہ جیووں گا؛ عمر نے مجھ سے بے وفائی کی۔
3
वस्ल के दिन की आरज़ू ही रही
शब न आख़िर हुई जुदाई की
وصل کے دن کی آرزو ہی رہی
شب نہ آخر ہوئی جدائی کی
وصل کے دن کی آرزو ہی رہی، شب نہ آخر ہوئی جدائی کی. اس کا مطلب ہے کہ صرف ملنے کے دن کی خواہش تھی، تاکہ یہ جدائی آخر کار ختم ہو جائے۔
4
इसी तक़रीब उस गली में रहे
मिन्नतें हैं शिकस्ता-पाई की
اسی تقریب اس گلی میں رہے
منتیں ہیں شکستہ پائی کی
اسی تکریب اُس گلی میں رہے، جہاں مَنّتیں ہیں شکستہ پائی کی
5
दिल में उस शोख़ के न की तासीर
आह ने आह ना-रसाई की
دل میں اس شوخ کے نہ کی تاثیر
آہ نے آہ نارسائی کی
اس شرارتی کے دل میں کوئی اثر نہیں ہوا، اور میری آہوں میں نغمے کی رسا نہیں تھی۔
6
कासा-ए-चश्म ले के जूँ नर्गिस
हम ने दीदार की गदाई की
کاسۂ چشم لے کے جوں نرگس
ہم نے دیدار کی گدائی کی
کسأے چشم لے کے جون نرجس، ہم نے دیدار کی گدائی کی ۔ اس کا مطلب ہے کہ شاعر نے آنکھوں کی خوبصورتی کو چشمعے میں نرجس کے پھول کی طرح سجا کر، آپ کے دیدار کی کرم فرمائی کی۔
7
ज़ोर ओ ज़र कुछ न था तो बार-ए-'मीर'
किस भरोसे पर आश्नाई की
زور و زر کچھ نہ تھا تو بار میرؔ
کس بھروسے پر آشنائی کی
اگر تجھے کوئی طاقت یا مال ہوتا، اے میر، تو کس بھروسے پر نے وعدہ کیا؟
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
