غزل
ग़ैरों से मिल चले तुम मस्त-ए-शराब हो कर
ग़ैरों से मिल चले तुम मस्त-ए-शराब हो कर
یہ غزل اس کیفیت کو بیان کرتی ہے کہ انسان اجنبیوں کے سامنے بھی مست یا بے فکر دکھائی دیتا ہے۔ اس میں محبت اور زندگی کے عارضی، شاداب تجربات کا اظہار کیا گیا ہے، جہاں محفل میں ہر چیز قدرتی اور بے باک ہو جاتی ہے۔
نغمہ سنیں
1
ग़ैरों से मिल चले तुम मस्त-ए-शराब हो कर
ग़ैरत से रह गए हम यकसू कबाब हो कर
غیروں سے مل چلے تم مست شراب ہو کر
غیرت سے رہ گئے ہم یکسو کباب ہو کر
گٔیروں سے مل چلے تم مستِ شراب ہو کر، اور میں غیرت سے رہ گئے ایک سو کباب ہو کر۔
2
उस रू-ए-आतिशीं से बुर्क़ा सरक गया था
गुल बह गया चमन में ख़जलत से आब हो कर
اس روئے آتشیں سے برقع سرک گیا تھا
گل بہہ گیا چمن میں خجلت سے آب ہو کر
اس روئے آتشی سے برقع سرک گیا تھا، گل بہ گیا چمن میں خجلت سے آب ہو کر۔
3
कल रात मुँद गई थीं बहुतों की आँखें ग़श से
देखा किया न कर तो सरमस्त ख़्वाब हो कर
کل رات مند گئی تھیں بہتوں کی آنکھیں غش سے
دیکھا کیا نہ کر تو سرمست خواب ہو کر
کل رات بہتوں کی آنکھیں گہرے خواب کے نشے میں بند تھیں؛ اگر کسی نے دیکھا نہ ہوتا، تو یہ ایک سرمنش خواب ہوتا۔
4
पर्दा रहेगा क्यूँकर ख़ुर्शीद-ए-ख़ावरी का
निकले है वो भी अब बे-नक़ाब हो कर
پردہ رہے گا کیوں کر خورشید خاوری کا
نکلے ہے وہ بھی اب بے نقاب ہو کر
پردہ رہے گا کیوں کر خورشیدِ خاوری کا، نکلے ہے وہ بھی اب بے نقاب ہو کر۔
5
यक क़तरा आब मैं ने इस दौर में पिया है
निकला है चश्म-ए-तर से वो ख़ून-ए-नाब हो कर
یک قطرہ آب میں نے اس دور میں پیا ہے
نکلا ہے چشم تر سے وہ خون ناب ہو کر
میں نے اس دور میں ایک قطرہ آب پیا ہے، اور وہ چشمۂ تر سے خونِ ناب ہو کر نکلا ہے۔
6
आ बैठता था सूफ़ी हर सुब्ह मय-कदे में
शुक्र-ए-ख़ुदा कि निकला वाँ से ख़राब हो कर
آ بیٹھتا تھا صوفی ہر صبح میکدے میں
شکر خدا کہ نکلا واں سے خراب ہو کر
شاعِر کہتا ہے کہ صوفی ہر صبح میرے دل میں بیٹھتا تھا، اور شکرِ خدا کہ وہ وہاں سے خراب ہو کر نکلا۔
7
शर्म-ओ-हया कहाँ तक हैं 'मीर' कोई दिन के
अब तो मिला करो तुम टुक बे-हिजाब हो कर
شرم و حیا کہاں تک ہیں میرؔ کوئی دن کے
اب تو ملا کرو تم ٹک بے حجاب ہو کر
اے میر، حیا اور شرم کہاں تک ہیں؟ کسی دن تو ملنا، جو بے حجاب ہو۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
