غزل

बू कि हो सू-ए-बाग़ निकले है

बू कि हो सू-ए-बाग़ निकले है
میر تقی میر· Ghazal· 7 shers

یہ غزل ایک ایسے منظر کی عکاسی کرتی ہے جہاں باغ کے کنارے سے ایک دلکش خوشبو آ رہی ہے، جو बावڑی سے نکلے ذہن جیسی ہے۔ اس میں اندھیرے شہر میں بھی خوشی لانے کے لیے چراغ لے جانے اور دل سے نشان زدہ حرکتوں کا ذکر ہے۔

نغمہ سنیں

شعر بہ شعر معنی

رسم الخط
1
बू कि हो सू-ए-बाग़ निकले है बाव से इक दिमाग़ निकले है
بو کہ ہو سوئے باغ نکلے ہے باؤ سے اک دماغ نکلے ہے
شاعر پوچھتا ہے کہ یہ خوشبو باغ سے آئی ہے، اور دماغ وطن سے نکلا ہے۔
2
है जो अंधेर शहर में ख़ुर्शीद दिन को ले कर चराग़ निकले है
ہے جو اندھیر شہر میں خورشید دن کو لے کر چراغ نکلے ہے
وہ سورج، جو اندھیرے شہر میں ہے، دن کے وقت چراغ لے کر نکلا ہے۔
3
चोब-कारी ही से रहेगा शैख़ अब तो ले कर चुमाग़ निकले है
چوب کاری ہی سے رہے گا شیخ اب تو لے کر چماغ نکلے ہے
چوب‌کاری ہی سے رہے گا شیخ، اب تو لے کر چمغا نکلے ہے۔ اس کا لغوی مطلب ہے کہ شیخ کا گزر بسر ابھی بھی جھاڑو کے کام سے رہے گا، حالانکہ اب تو وہ ایک چمغا (ایک قسم کے چھوٹے پرندے) کو لے کر نکل پڑا ہے۔
4
दे है जुम्बिश जो वाँ की ख़ाक को बाव जिगर दाग़ दाग़ निकले है
دے ہے جنبش جو واں کی خاک کو باؤ جگر داغ داغ نکلے ہے
جو دھواں دنیا کی خاک سے اٹھ رہا ہے، وہ کتنا دیوانہ ہے۔ میرا دل، جو داغوں سے نشان زد ہے، بہہ نکلا ہے۔
5
हर सहर हादिसा मिरी ख़ातिर भर के ख़ूँ का अयाग़ निकले है
ہر سحر حادثہ مری خاطر بھر کے خوں کا ایاغ نکلے ہے
ہر سحر حادثہ میری خاطر، بھر کے خون کا ایاغ نکلے ہے
6
उस गली की ज़मीन-ए-तफ़्ता से दिल-जलों का सुराग़ निकले है
اس گلی کی زمین تفتہ سے دل جلوں کا سراغ نکلے ہے
اس گلی کی تھکی ہوئی زمین سے، دل جلنے کا کوئی سراغ نکلا ہے۔
7
शायद उस ज़ुल्फ़ से लगी है 'मीर' बाव में इक दिमाग़ निकले है
شاید اس زلف سے لگی ہے میرؔ باؤ میں اک دماغ نکلے ہے
شاید اس زلف سے لگی ہے 'میر' बाव میں اک دماغ نکلے ہے۔ اس کا لغوی مطلب یہ ہے کہ شاید اس زلف (کسٹ) کے چھوئے سے 'میر' کے دل (باو) میں کوئی خیال یا سوچ پیدا ہوئی ہے۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.