غزل
बू कि हो सू-ए-बाग़ निकले है
बू कि हो सू-ए-बाग़ निकले है
یہ غزل ایک ایسے منظر کی عکاسی کرتی ہے جہاں باغ کے کنارے سے ایک دلکش خوشبو آ رہی ہے، جو बावڑی سے نکلے ذہن جیسی ہے۔ اس میں اندھیرے شہر میں بھی خوشی لانے کے لیے چراغ لے جانے اور دل سے نشان زدہ حرکتوں کا ذکر ہے۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
बू कि हो सू-ए-बाग़ निकले है
बाव से इक दिमाग़ निकले है
شاعر پوچھتا ہے کہ یہ خوشبو باغ سے آئی ہے، اور دماغ وطن سے نکلا ہے۔
2
है जो अंधेर शहर में ख़ुर्शीद
दिन को ले कर चराग़ निकले है
وہ سورج، جو اندھیرے شہر میں ہے، دن کے وقت چراغ لے کر نکلا ہے۔
3
चोब-कारी ही से रहेगा शैख़
अब तो ले कर चुमाग़ निकले है
چوبکاری ہی سے رہے گا شیخ، اب تو لے کر چمغا نکلے ہے۔ اس کا لغوی مطلب ہے کہ شیخ کا گزر بسر ابھی بھی جھاڑو کے کام سے رہے گا، حالانکہ اب تو وہ ایک چمغا (ایک قسم کے چھوٹے پرندے) کو لے کر نکل پڑا ہے۔
4
दे है जुम्बिश जो वाँ की ख़ाक को बाव
जिगर दाग़ दाग़ निकले है
جو دھواں دنیا کی خاک سے اٹھ رہا ہے، وہ کتنا دیوانہ ہے۔ میرا دل، جو داغوں سے نشان زد ہے، بہہ نکلا ہے۔
5
हर सहर हादिसा मिरी ख़ातिर
भर के ख़ूँ का अयाग़ निकले है
ہر سحر حادثہ میری خاطر، بھر کے خون کا ایاغ نکلے ہے
6
उस गली की ज़मीन-ए-तफ़्ता से
दिल-जलों का सुराग़ निकले है
اس گلی کی تھکی ہوئی زمین سے، دل جلنے کا کوئی سراغ نکلا ہے۔
7
शायद उस ज़ुल्फ़ से लगी है 'मीर'
बाव में इक दिमाग़ निकले है
شاید اس زلف سے لگی ہے 'میر' बाव میں اک دماغ نکلے ہے۔ اس کا لغوی مطلب یہ ہے کہ شاید اس زلف (کسٹ) کے چھوئے سے 'میر' کے دل (باو) میں کوئی خیال یا سوچ پیدا ہوئی ہے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
