چوب کاری ہی سے رہے گا شیخ — میر تقی میر
“From the craft of the broom, the Shaikh will remain, Now he has taken out the churmagh (a type of small bird).”
معنی
چوبکاری ہی سے رہے گا شیخ، اب تو لے کر چمغا نکلے ہے۔ اس کا لغوی مطلب ہے کہ شیخ کا گزر بسر ابھی بھی جھاڑو کے کام سے رہے گا، حالانکہ اب تو وہ ایک چمغا (ایک قسم کے چھوٹے پرندے) کو لے کر نکل پڑا ہے۔
تشریح
یہ شعر ایک روحانی سفر کی بات کرتا ہے۔ شیخ کے پاس صرف اپنی لاٹھی (چوبکاری) ہے، مگر آج انہوں نے 'چومغ' بھی لے کر نکلے ہیں۔ یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ یہ سفر صرف جسمانی نہیں، بلکہ کسی گہرے احساس یا یاد کو ساتھ لیے ایک نئے مرحلے کا آغاز ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
