غزل

आरज़ूएँ हज़ार रखते हैं

आरज़ूएँ हज़ार रखते हैं
میر تقی میر· Ghazal· 7 shers

یہ غزل بتاتی ہے کہ اگرچہ ہمارے پاس ہزاروں آرزوئیں ہیں، پھر بھی ہم دل کو بے قرار اور کم حوصلہ رکھتے ہیں۔ ہم صرف عنایت کے مُرید نہیں ہیں، بلکہ ہم تم سے پیار بھی کرتے ہیں۔ ہم صرف نام کے یار نہیں ہیں، بلکہ نگاہ اور وعدے سے بھی محبت کرتے ہیں۔

نغمہ سنیں

شعر بہ شعر معنی

رسم الخط
1
आरज़ूएँ हज़ार रखते हैं तो भी हम दिल को मार रखते हैं
آرزوئیں ہزار رکھتے ہیں تو بھی ہم دل کو مار رکھتے ہیں
اس کا مطلب ہے کہ اگرچہ ہمارے پاس ہزار خواہشیں ہیں، پھر بھی ہم اپنے دل کو قابو میں رکھتے ہیں۔
2
बर्क़ कम-हौसला है हम भी तो दिलक-ए-बे-क़रार रखते हैं
برق کم حوصلہ ہے ہم بھی تو دلک بے قرار رکھتے ہیں
بَرق کم‌حوصلہ ہے ہم بھی تو، دلکِ بے قرار رکھتے ہیں. اس کا مطلب ہے کہ اگرچہ میرا حوصلہ کم لگتا ہے، لیکن میرے پاس ایک ایسا دل ہے جو کبھی پرسکون نہیں رہتا۔
3
ग़ैर ही मूरिद-ए-इनायत है हम भी तो तुम से प्यार रखते हैं
غیر ہی مورد عنایت ہے ہم بھی تو تم سے پیار رکھتے ہیں
اشعار میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ محبوب ہی عنایت کا واحد ذریعہ ہے، مگر شاعر کا بھی محبوب سے پیار ہے۔
4
न निगह ने पयाम ने वा'दा नाम को हम भी यार रखते हैं
نہ نگہ نے پیام نے وعدہ نام کو ہم بھی یار رکھتے ہیں
نہ نگاہ نے، نہ پیغام نے، نہ وعدہ نے، ہم بھی نام کو یار رکھتے ہیں۔
5
हम से ख़ुश-ज़मज़मा कहाँ यूँ तो लब ओ लहजा हज़ार रखते हैं
ہم سے خوش زمزمہ کہاں یوں تو لب و لہجہ ہزار رکھتے ہیں
ہم سے خوش-جذبہ کہاں، جب ہمارے پاس ہزاروں لب و لہجے ہیں۔
6
चोट्टे दिल के हैं बुताँ मशहूर बस यही ए'तिबार रखते हैं
چوٹٹے دل کے ہیں بتاں مشہور بس یہی اعتبار رکھتے ہیں
چھوٹے دل والے بھوٹان مشہور ہیں، اور وہ بس یہی ایک اعتبار رکھتے ہیں۔
7
फिर भी करते हैं 'मीर' साहब इश्क़ हैं जवाँ इख़्तियार रखते हैं
پھر بھی کرتے ہیں میرؔ صاحب عشق ہیں جواں اختیار رکھتے ہیں
پھر بھی میر صاحب عشق کرتے ہیں کیونکہ وہ ابھی بھی جوانی کا جوش اور عزم رکھتے ہیں۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.