غزل
میں کہاں کہتا ہوں کہ آپ کی 'ہاں' ہونی چاہیے,
میں کہاں کہتا ہوں کہ آپ کی 'ہاں' ہونی چاہیے,
یہ غزل ایک عاشق کے پیچیدہ جذبات کو بیان کرتی ہے جو رد میں بھی سچی کیفیات کا متلاشی ہے۔ شاعر محبوب سے جذباتی گہرائی کی آرزو کرتا ہے، بے رخی کے بجائے ایک دل سے کہے گئے 'نا' کے درد کو ترجیح دیتا ہے۔ یہ تقدیر سے ماورا خوشی کی تمنا اور محبوب کے درد کو متضاد طور پر اپنانے کو ظاہر کرتی ہے۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
હું ક્યાં કહું છું આપની 'હા' હોવી જોઈએ,
પણ ના કહો છો એમાં વ્યથા હોવી જોઈએ.
میں یہ نہیں کہتا کہ آپ کی 'ہاں' ہونی چاہیے، لیکن جب آپ 'نا' کہیں تو اس 'نا' میں تکلیف یا رنجش ہونی چاہیے۔
2
પૂરતો નથી નસીબનો આનંદ ઓ ખુદા,
મરજી મુજબની થોડી મજા હોવી જોઈએ.
اے خدا، نصیب کی خوشی کافی نہیں ہے۔ میری مرضی کے مطابق بھی کچھ لطف ہونا چاہیے۔
3
એવી તો બેદિલીથી મને માફ ના કરો,
હું ખુદ કહી ઊઠું કે સજા હોવી જોઈએ.
مجھے اتنی بے دلی سے معاف نہ کرو کہ میں خود کہہ اٹھوں کہ سزا ہونی چاہیے۔ شاعر کا مقصد یہ ہے کہ بے دلی سے دی گئی معافی سے بہتر ہے کہ اسے مناسب سزا دی جائے۔
4
આ તારું દર્દ હો જો બીજાને તો ના ગમે,
હમણાં ભલે કહું છું દવા હોવી જોઈએ.
اگر یہ تمہارا درد کسی اور کا ہوتا تو انہیں ناگوار گزرتا۔ لیکن ابھی میں کہتا ہوں کہ اس کی دوا ہونی چاہیے۔
5
મેં એનો પ્રેમ ચાહ્યો બહુ સાદી રીતથી,
નહોતી ખબર કે એમાં કલા હોવી જોઈએ.
میں نے اُس کا پیار بہت سادگی سے چاہا، مجھے معلوم نہ تھا کہ اس میں فن ہونا چاہیے۔
6
ઝાહેદ આ કેમ જાય છે મસ્જિદમાં રોજ રોજ,
એમાં જરાક જેવી મજા હોવી જોઈએ.
اے زاہد، وہ روز روز مسجد میں کیوں جاتا ہے؟ اس میں ذرا سی تو مزے دار بات ہونی چاہیے۔
7
બાકી ઘણા હકીમ હતા પણ આ મારી હઠ,
બસ તારા હાથથી જ સિફા હોવી જોઈએ.
باقی کئی حکیم موجود تھے، لیکن یہ میری ضد ہے، کہ شفا صرف تیرے ہاتھوں سے ہی ہونی چاہیے۔
8
પૃથ્વીની આ વિશાળતા અમથી નથી ‘મરીઝ’,
એના મિલનની ક્યાંક જગા હોવી જોઈએ.
زمین کی یہ وسعت بے مقصد نہیں ہے، 'مریض'؛ ہمارے ملن کے لیے کہیں نہ کہیں کوئی جگہ ہونی چاہیے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
