“If this pain of yours were another's, they'd find it unpleasing,But for now, I say, a remedy there ought to be.”
اگر یہ تمہارا درد کسی اور کا ہوتا تو انہیں ناگوار گزرتا۔ لیکن ابھی میں کہتا ہوں کہ اس کی دوا ہونی چاہیے۔
ارے واہ، یہ شعر واقعی ہمیں سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے، ہے نا؟ یہ ہمارے دل کی ایک عجیب حقیقت کو بڑی نزاکت سے بیان کرتا ہے۔ ہم اپنے غموں کو اتنی گہرائی سے محسوس کرتے ہیں کہ فوراً ان کا علاج چاہتے ہیں، لیکن ذرا تصور کیجیے اگر یہی درد کسی اور کا ہوتا تو شاید ہم اس کی گہرائی کو نہ سمجھ پاتے یا اسے بوجھل تصور کرتے۔ اس انسانی فطرت کے مشاہدے کے باوجود، شاعر پھر بھی شفا کی خواہش کرتا ہے، جو خودغرضی کے بارے میں ایک گہری بصیرت کو شفقت کے ساتھ خوبصورتی سے توازن بخشتا ہے۔
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
