غزل

زاہد کہوں کیا تجھ سے کہ ہوں اب میں کدھر کا

زاہد کہوں کیا تجھ سے کہ ہوں اب میں کدھر کا

اس غزل میں شاعر زاہد سے مخاطب ہو کر عشق کی بے بسی اور اپنی خانہ خرابی کا بیان کرتا ہے کہ وہ اب نہ ادھر کا رہا نہ ادھر کا۔ محبوب کے خنجرِ مژگاں کے سامنے دل کی ناتوانی اور تقدیر و قضا کی لاچاری اس کلام کا مرکزی موضوع ہے۔

Source: Kulliyat-e-Hazrat Ruknuddin Ishq (poems only) · HI

نغمہ سنیں
رسم الخط
1
ज़ाहिद कहूँ क्या तुझ से कि हूँ अब मैं किधर का आफ़त-ज़दा हूँ यार इधर का न उधर का
زاہد کہوں کیا تجھ سے کہ ہوں اب میں کدھر کا آفت زدہ ہوں یار اِدھر کا نہ اُدھر کا
اے زاہد، میں تم سے کیا کہوں کہ اب میں کہاں کا ہوں؛ اے دوست، میں مصیبت کا مارا اب نہ ادھر کا رہا اور نہ ادھر کا۔
2
किस तौर दिल उस ख़ंजर-ए-मिज़्गाँ की सिपर हो मक़दूर जहाँ हो न क़ज़ा का न क़दर का
کس طور دل اُس خنجر مژگاں کی سپر ہو مقدور جہاں ہو نہ قضا کا نہ قدر کا
دل ان پلکوں کے خنجر کے آگے ڈھال کیسے بنے، جہاں قضا اور تقدیر کا بھی کوئی بس نہیں چلتا۔
3
गुलज़ार में दुनिया के हूँ जूँ नख़्ल-ए-भचंपा ख़्वाहिश न समर की न मियाँ ख़ौफ़-ए-क़हर का
گلزار میں دنیا کے ہوں جوں نخلِ بھچنپا خواہش نہ ثمر کی نہ میاں خوفِ قہر کا
میں اس دنیا کے گلزار میں بھوچنپا کے پودے کی مانند ہوں؛ اے دوست، مجھے نہ تو پھل کی کوئی خواہش ہے اور نہ ہی کسی قہر کا خوف۔
4
मैं हाथ में हूँ बाद के मानिंद पर-ए-काह पा-बंद न घर का हूँ न मुश्ताक़ सफ़र का
میں ہاتھ میں ہوں باد کے مانند پرِ کاہ پا بند نہ گھر کا ہوں نہ مشتاق سفر کا
میں ہوا کے اختیار میں گھاس کے ایک تنکے کی طرح ہوں؛ نہ تو میں گھر کا پابند ہوں اور نہ ہی سفر کا کوئی شوق رکھتا ہوں۔
5
उस से जो किया इश्क़ का मज़कूर किसी ने बोला कि अबस ज़िक्र है उस ख़ाक-ब-सर का
اُس سے جو کیا عشق کا مذکور کسی نے بولا کہ عبث ذکر ہے اُس خاک بسر کا
جب کسی نے محبوب کے سامنے عشق کا ذکر کیا، تو اس نے کہا کہ اس خستہ حال اور بے سروسامان شخص کی بات کرنا بالکل بے کار ہے۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.

زاہد کہوں کیا تجھ سے کہ ہوں اب میں کدھر کا | Sukhan AI