“What can I tell you, preacher, of where I now belong? Struck by calamity, my friend, I am neither here nor there.”
اے زاہد، میں تم سے کیا کہوں کہ اب میں کہاں کا ہوں؛ اے دوست، میں مصیبت کا مارا اب نہ ادھر کا رہا اور نہ ادھر کا۔
شاعر یہاں واعظ و زاہد کو مخاطب کر کے اپنی بے چارگی کا احوال ایک گہری بے بسی کے ساتھ سنا رہا ہے۔ عشق کی آفت نے اسے ایسے موڑ پر لا کھڑا کیا ہے کہ وہ نہ تو نیکی اور تقویٰ کی راہ اختیار کر سکا اور نہ ہی دنیا یا محبوب کی بانہوں میں پناہ پا سکا۔ یہ شعر محبت کی اس بے گھری اور کشمکش کی لاجواب تصویر ہے جہاں انسان ہر سمت سے کٹ کر مکمل طور پر بے ٹھکانہ ہو جاتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
