گلزار میں دنیا کے ہوں جوں نخلِ بھچنپا خواہش نہ ثمر کی نہ میاں خوفِ قہر کا

“In this world's garden I am like the ground-champa tree: craving no sweet fruit, my friend, nor fearing wrath's decree.”

— خواجہ رکن الدین عشق
معنی

میں اس دنیا کے گلزار میں بھوچنپا کے پودے کی مانند ہوں؛ اے دوست، مجھے نہ تو پھل کی کوئی خواہش ہے اور نہ ہی کسی قہر کا خوف۔

تشریح

اس دل کش شعر میں شاعر دنیا کو ایک گلزار سمجھتے ہوئے خود کو ’نخلِ بھوچنپا‘ یعنی زمین کے قریب کھلنے والے ایک بے ثمر اور عاجز پودے سے تشبیہ دیتا ہے۔ چونکہ اس کے دل میں پھل پانے یا دنیاوی فائدے کی کوئی لالچ نہیں، اس لیے اسے کسی کے قہر یا نقصان کا کوئی خوف بھی نہیں ستاتا۔ یہ شعر دراصل بے نیازی اور توکل کی ایک خوبصورت تصویر ہے، جہاں انسان تمام حرص اور ڈر سے آزاد ہو کر سکون پا لیتا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.