میں ہاتھ میں ہوں باد کے مانند پرِ کاہ پا بند نہ گھر کا ہوں نہ مشتاق سفر کا

“Held in the wind's grasp like a wisp of straw am I; neither bound to home, nor yearning for the road.”

— خواجہ رکن الدین عشق
معنی

میں ہوا کے اختیار میں گھاس کے ایک تنکے کی طرح ہوں؛ نہ تو میں گھر کا پابند ہوں اور نہ ہی سفر کا کوئی شوق رکھتا ہوں۔

تشریح

اس شعر میں شاعر نے اپنے وجود کو ہوا کے رحم و کرم پر اڑتے ہوئے ایک سوکھے تنکے (پرِ کاہ) سے تشبیہ دی ہے، جس کا اپنا کوئی ارادہ نہیں ہوتا۔ یہ مکمل سپردگی اور دنیا سے ایک عجیب سی بے نیازی کا عالم ہے، جہاں دل نہ تو گھر کے سائے میں رکنے کا پابند ہے اور نہ ہی سفر پر نکلنے کی کوئی حسرت باقی رہی ہے۔ انسان جب خود کو قسمت کی ہواؤں کے سپرد کر دیتا ہے، تو اس کے اندر کی کشمکش ختم ہو جاتی ہے اور وہ بس وقت کے دھارے پر بہتا چلا جاتا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.