“How could the heart serve as a shield against the dagger of those lashes, in a realm where neither fate nor destiny holds any sway?”
دل ان پلکوں کے خنجر کے آگے ڈھال کیسے بنے، جہاں قضا اور تقدیر کا بھی کوئی بس نہیں چلتا۔
اس شعر میں شاعر محبوب کی پلکوں کو ایک تیز دھار خنجر سے تشبیہ دے رہا ہے، جس کے وار سے بچنا کسی طور ممکن نہیں۔ عاشق کا دل سوچتا ہے کہ وہ اس کے سامنے بھلا کیسے ڈھال بنے، جب عشق کے اس دائرے میں خود قضا اور تقدیر جیسی زبردست قوتیں بھی بے بس ہو کر رہ جاتی ہیں۔ یہ دراصل محبوب کی قاتل نگاہ کے سامنے دل کے مکمل، لاچار اور پُراثر سپردگی کا ایک خوبصورت اور روایتی اندازِ بیاں ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
