غزل
اس طرح کا غضب ہے رو دینا
اس طرح کا غضب ہے رو دینا
یہ غزل غم و الم کی اس شدت اور تباہ کاری کی عکاسی کرتی ہے جہاں آنسوؤں کا طوفان پل بھر میں پوری دنیا کو غرق کر دینے کی طاقت رکھتا ہے۔ اس میں دل کی بربادی، تقدیر کے جبر اور انسان کی ناگزیر بے بسی کو انتہائی پردرد اور پرتاثیر انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
Source: Kulliyat-e-Hazrat Ruknuddin Ishq (poems only) · HI
نغمہ سنیں
1
इस तरह का ग़ज़ब है रो देना
एक पल में जहाँ डुबो देना
اس طرح کا غضب ہے رو دینا
ایک پل میں جہاں ڈبو دینا
اس انداز سے رونا ایسا غضب ہے کہ ایک ہی پل میں پوری دنیا کو ڈبو دیتا ہے۔
2
किस को मंज़ूर है ख़राबी-ए-दिल
कीजिए क्या जो कुछ कि हो देना
کس کو منظور ہے خرابیٔ دل
کیجئے کیا جو کچھ کہ ہو دینا
دل کی بربادی بھلا کس کو منظور ہوتی ہے؟ لیکن انسان کیا کرے، جو کچھ ہونا مقدر ہے وہ تو ہو کر ہی رہتا ہے۔
3
इस में हासिल है क्या तुझे ज़ालिम
दिल को ले इस तरह से खो देना
اس میں حاصل ہے کیا تجھے ظالم
دل کو لے اس طرح سے کھو دینا
اے ظالم! تجھے اس بات سے کیا حاصل ہوتا ہے کہ پہلے تو کسی کا دل لے اور پھر اسے اس طرح کھو دے؟
4
आगे ही जाँ-ओ-दिल किया है निसार
जो कुछ अब चाहते हो लो, देना
آگے ہی جاں و دل کیا ہے نثار
جو کچھ اب چاہتے ہو لو، دینا
میں اپنی جان اور دل تو پہلے ہی آپ پر قربان کر چکا ہوں، اب آپ جو کچھ بھی چاہتے ہیں لے لیں۔
5
इस से ज़्यादा कोई ख़सारत है
हाथ अपने से इश्क़ को देना
اس سے زیادہ کوئی خسارت ہے
ہاتھ اپنے سے عشق کو دینا
کیا اس سے بڑا بھی کوئی نقصان ہو سکتا ہے کہ انسان اپنے ہی ہاتھوں سے اپنے عشق کو گنوا دے؟
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
