“Who would ever desire the ruin of the heart? / Yet what can one do, when it is destined to fall apart?”
دل کی بربادی بھلا کس کو منظور ہوتی ہے؟ لیکن انسان کیا کرے، جو کچھ ہونا مقدر ہے وہ تو ہو کر ہی رہتا ہے۔
کوئی بھی اپنی مرضی سے دل کا اجڑنا یا اس کی بربادی قبول نہیں کرتا، کیونکہ دل کا ٹوٹنا بھلا کس کو عزیز ہو سکتا ہے۔ لیکن محبت اور تقدیر کے کھیل میں اکثر انسان اس قدر بے بس ہو جاتا ہے کہ حالات کے آگے ہتھیار ڈالنے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچتا۔ یہ شعر اسی انسانی بے چارگی اور درد کو خاموشی سے گلے لگانے کی دل کش تصویر ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
