آگے ہی جاں و دل کیا ہے نثار جو کچھ اب چاہتے ہو لو، دینا

“Heart and soul I have already surrendered unto thee; whatever else you now desire, take it—it is freely given.”

— خواجہ رکن الدین عشق
معنی

میں اپنی جان اور دل تو پہلے ہی آپ پر قربان کر چکا ہوں، اب آپ جو کچھ بھی چاہتے ہیں لے لیں۔

تشریح

اس شعر میں محبت کی مکمل خود سپردگی اور سادگی جھلکتی ہے۔ عاشق اپنے محبوب سے کہتا ہے کہ دل اور جان تو وہ پہلے ہی اس پر نچھاور کر چکا ہے، اب بھلا اس کے پاس دینے کو کیا باقی بچا ہے! مگر یہ کوئی شکوہ نہیں بلکہ والہانہ پن کا وہ عالم ہے جہاں عاشق سب کچھ لٹا کر بھی کہتا ہے کہ اگر کچھ اور بھی درکار ہو تو بے جھجک لے لو، سب تمہارا ہی ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.