غزل

حرم میں نام سُنا دیر میں نشاں دیکھا

حرم میں نام سُنا دیر میں نشاں دیکھا

یہ غزل ہمہ اوست اور ذاتِ باری تعالیٰ کی ہمہ گیری کے صوفیانہ موضوع پر مبنی ہے، جہاں سالک کو کعبہ و بت خانہ دونوں میں اسی ایک نورِ مطلق کا جلوہ دکھائی دیتا ہے۔ شاعر کائنات کی ہر شے میں صرف اور صرف ذاتِ حق کا دیدار کرتے ہوئے تسلیم و رضا کا اظہار کرتا ہے۔

Source: Kulliyat-e-Hazrat Ruknuddin Ishq (poems only) · HI

نغمہ سنیں
رسم الخط
1
हरम में नाम सुना दैर में निशाँ देखा सिवा-ए-तेरे न देखा ग़रज़ जहाँ देखा
حرم میں نام سُنا دیر میں نشاں دیکھا سوائے تیرے نہ دیکھا غرض جہاں دیکھا
میں نے حرم میں تیرا نام سنا اور بت خانے میں تیرا نشان دیکھا؛ غرض یہ کہ جہاں بھی دیکھا، تیرے سوا کسی اور کو نہیں دیکھا۔
2
कहाँ फ़राग़ है जो कुछ कहूँ यही बस है दिखाया जो जो हमें तू ने मेहरबाँ देखा
کہاں فراغ ہے جو کچھ کہوں یہی بس ہے دکھایا جو جو ہمیں تو نے مہرباں دیکھا
اتنی بات کہنے کی فرصت کہاں ہے، بس اتنا ہی کافی ہے کہ اے مہربان، تو نے ہمیں جو کچھ دکھایا ہم نے وہ سب دیکھا۔
3
उसी का आईना हज़दह हज़ार आलम है फिर इस को क्या कहूँ मुझ से कहाँ कहाँ देखा
اُسی کا آئینہ ہژدہ ہزار عالم ہے پھر اس کو کیا کہوں مجھ سے کہاں کہاں دیکھا
یہ اٹھارہ ہزار جہانوں پر مشتمل کائنات اسی کا آئینہ ہے، پھر میں کیا کہوں کہ اس نے میرے ذریعے کہاں کہاں دیکھا۔
4
हम उस की आँखों से कहते थे मत लगाओ ताक हुई न बे-ख़ुदी आख़िर को मय-कशाँ देखा
ہم اس کی آنکھوں سے کہتے تھے مت لگاؤ تاک ہوئی نہ بے خودی آخر کو مے کشاں دیکھا
ہم کہتے تھے کہ اس کی آنکھوں پر نظر مت جماؤ، اے شراب پینے والو! دیکھ لیا نا کہ آخرکار بے خودی طاری ہو ہی گئی۔
5
न पाई इश्क़ से बेहतर जहाँ में कोई चीज़ हज़ार बार इसे कर के इम्तिहाँ देखा
نہ پائی عشق سے بہتر جہاں میں کوئی چیز ہزار بار اسے کر کے امتحاں دیکھا
میں نے ہزار بار آزما کر دیکھ لیا، مگر اس دنیا میں مجھے عشق سے بہتر کوئی چیز نہیں ملی۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.

حرم میں نام سُنا دیر میں نشاں دیکھا | Sukhan AI