“In the holy shrine I heard Your name, in the temple saw Your trace; in short, wherever I cast my gaze, I saw none other than Your face.”
میں نے حرم میں تیرا نام سنا اور بت خانے میں تیرا نشان دیکھا؛ غرض یہ کہ جہاں بھی دیکھا، تیرے سوا کسی اور کو نہیں دیکھا۔
یہ شعر صوفیانہ فکر اور وحدت کی اس سچی تڑپ کا آئینہ دار ہے جہاں مذہب اور مسلک کی تمام ظاہری حدیں مٹ جاتی ہیں۔ شاعر کہتا ہے کہ کعبے میں اسی کا چرچا سنا اور مندر میں بھی اسی کے جلوؤں کا نشان پایا۔ سیدھی سی بات یہ ہے کہ جب دل کی آنکھ کھلے، تو اس ساری کائنات میں اس ایک ذاتِ حق کے سوا کچھ اور دکھائی ہی نہیں دیتا۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
