“I warned you not to fix your gaze upon those intoxicating eyes; did not oblivion claim you in the end, O fellow drinkers, see?”
ہم کہتے تھے کہ اس کی آنکھوں پر نظر مت جماؤ، اے شراب پینے والو! دیکھ لیا نا کہ آخرکار بے خودی طاری ہو ہی گئی۔
شاعر یہاں اپنے مے نوش ساتھیوں کو بڑے پیار اور بے تکلفی سے جتلا رہا ہے کہ میں نے تمہیں پہلے ہی روکا تھا کہ محبوب کی نشیلی آنکھوں سے نظریں مت ملاؤ۔ میخانے کا جام تو محض ایک بہانہ ہے، اصل سرور تو اس نگاہ میں ہے جو انسان کو اپنے وجود سے ہی بے خبر کر دیتی ہے۔ آخر وہی ہوا جس کا اندیشہ تھا، تم سب ہوش و حواس کھو بیٹھے اور بے خودی کی گرفت میں آ گئے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
