“Where is the leisure to speak at length? Let this suffice, O gracious friend: Whatever you chose to show to me, I looked upon until the end.”
اتنی بات کہنے کی فرصت کہاں ہے، بس اتنا ہی کافی ہے کہ اے مہربان، تو نے ہمیں جو کچھ دکھایا ہم نے وہ سب دیکھا۔
اس شعر میں زندگی کے مصائب سے تھکے ہوئے انسان کی دھیمی سی شکایت اور خاموش تسلیم و رضا کا بڑا دلکش اظہار ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ حالات نے اتنی مہلت ہی نہ دی کہ دکھوں کا دفتر کھولا جائے، بس لبِ لباب یہی ہے کہ تو نے جو بھی تماشہ یا ستم دکھایا، ہم نے چپ چاپ اسے برداشت کر لیا۔ محبوب یا تقدیر کو 'مہرباں' کہنا دراصل ایک لطیف اور پردرد طنز ہے، جس میں شکوے سے زیادہ محبت بھرا صبر چھلک رہا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
