“All eighteen thousand worlds are but a mirror of His grace; / What can I say of where, through me, He gazed into this space?”
یہ اٹھارہ ہزار جہانوں پر مشتمل کائنات اسی کا آئینہ ہے، پھر میں کیا کہوں کہ اس نے میرے ذریعے کہاں کہاں دیکھا۔
اس شعر میں صوفیانہ فکر کی ایک نہایت دلکش اور لطیف جھلک ملتی ہے۔ شاعر فرماتے ہیں کہ یہ اٹھارہ ہزار جہانوں پر مشتمل کائنات دراصل اسی ایک پروردگار کا آئینہ ہے جس میں اس کا حسن چمکتا ہے۔ مگر اصل لطف دوسرے مصرعے میں ہے، جہاں شاعر کو گمان ہوتا ہے کہ اس کائنات کے خالق نے اپنے ہی جلوؤں کو دیکھنے کے لیے انسان کی آنکھ اور دل کا وسیلہ چنا ہے۔ یوں انسان محض ایک تماشائی نہیں رہتا، بلکہ وہ نگاہ بن جاتا ہے جس کے ذریعے وہ لاانتہا ذات اپنی ہی بنائی دنیا کا نظارہ کرتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
