غزل
غلط ہے یہ کہ دل میرا ادھر ہو یا اُدھر ہوگا
غلط ہے یہ کہ دل میرا ادھر ہو یا اُدھر ہوگا
یہ غزل دل کی لا مکاں کیفیت اور دونوں جہانوں سے اس کی ماورائیت کو خوبصورتی سے بیان کرتی ہے۔ اس میں شاعر محبوب کی سنگ دلی اور اس دعوے پر گہرا طنز کرتا ہے کہ اس کی موت پر محبوب کبھی آبدیدہ ہوگا۔
Source: Kulliyat-e-Hazrat Ruknuddin Ishq (poems only) · HI
نغمہ سنیں
1
ग़लत है ये कि दिल मेरा इधर हो या उधर होगा
दोनों आलम से मुबर्रा है ख़ुदा जाने किधर होगा
غلط ہے یہ کہ دل میرا ادھر ہو یا اُدھر ہوگا
دونوں عالم سے مبرا ہے خدا جانے کدھر ہوگا
یہ خیال غلط ہے کہ میرا دل یہاں ہوگا یا وہاں؛ وہ دونوں جہانوں سے الگ اور بے نیاز ہے، خدا ہی جانتا ہے کہ وہ کدھر ہوگا۔
2
हँसी रह रह के आती है ये सब बातें हैं कहने की
हमारी नअश पर ऐ संग-दिल तू चश्म-ए-तर होगा
ہنسی رہ رہ کے آتی ہے یہ سب باتیں ہیں کہنے کی
ہماری نعش پر اے سنگ دل تو چشم تر ہوگا
مجھے بار بار ہنسی آتی ہے کیونکہ یہ سب صرف کہنے کی باتیں ہیں کہ اے سنگ دل، تو میری لاش پر آنسو بہائے گا۔
3
दुआ है कुफ़्र-ओ-दीं को शैख़ जी कहियो बरहमन से
मिरा सज्दा उधर होगा जिधर उस का गुज़र होगा
دعا ہے کفر و دیں کو شیخ جی کہیو برہمن سے
مرا سجدہ اُدھر ہوگا جدھر اُس کا گزر ہوگا
اے شیخ جی، کفر اور دین دونوں کو میرا الوداع کہیے اور برہمن سے بھی کہہ دیجیے کہ میرا سجدہ اسی طرف ہوگا جہاں سے میرے محبوب کا گزر ہوگا۔
4
इसी ख़ातिर मैं ख़िदमत उस की अब आँखों से करता हूँ
ये दाग़-ए-दिल ही आख़िर को उस अबरू की सिपर होगा
اسی خاطر میں خدمت اُس کی اب آنکھوں سے کرتا ہوں
یہ داغ دل ہی آخر کو اُس ابرو کی سپر ہوگا
میں اپنے دل کے داغ کی خدمت آنکھوں سے صرف اس لیے کرتا ہوں، کیونکہ آخرکار دل کا یہی داغ محبوب کی کمان جیسی ابرو کے سامنے ڈھال بنے گا۔
5
फ़रिश्तों तक तो दाग़-ए-बंदगी रखते हैं माथे पर
न होगा इश्क़ का बंदा कोई ऐसा बशर होगा
فرشتوں تک تو داغ بندگی رکھتے ہیں ماتھے پر
نہ ہوگا عشق کا بندہ کوئی ایسا بشر ہوگا
جب فرشتے بھی اپنی پیشانی پر بندگی کا نشان رکھتے ہیں، تو ایسا کون سا انسان ہوگا جو عشق کا غلام نہ ہو۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
