“Even angels bear upon their brows the scar of pious servitude; could there truly be a mortal soul untouched by the devotion of love?”
جب فرشتے بھی اپنی پیشانی پر بندگی کا نشان رکھتے ہیں، تو ایسا کون سا انسان ہوگا جو عشق کا غلام نہ ہو۔
شاعر کتنی خوبصورتی سے سمجھاتے ہیں کہ جب فرشتوں جیسی پاکیزہ ہستیاں بھی اپنی پیشانی پر بندگی کا نشان سجائے ہوئے ہیں، تو بھلا کوئی انسان محبت کی قید سے کیسے آزاد رہ سکتا ہے۔ اس شعر کا حسن اس خیال میں پنہاں ہے کہ دل کی دنیا میں فنا ہونا اور عشق کی غلامی قبول کرنا ہی دراصل انسانیت کا جوہر ہے۔ دنیا میں ایسا کوئی بشر ہو ہی نہیں سکتا جس کے وجود پر محبت کی بندگی کی چھاپ نہ لگی ہو۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
