دعا ہے کفر و دیں کو شیخ جی کہیو برہمن سے مرا سجدہ اُدھر ہوگا جدھر اُس کا گزر ہوگا

“Offer my farewell to faith and disbelief, O Sheikh, and tell the Brahmin too: my prostration shall be wherever my beloved passes through.”

— خواجہ رکن الدین عشق
معنی

اے شیخ جی، کفر اور دین دونوں کو میرا الوداع کہیے اور برہمن سے بھی کہہ دیجیے کہ میرا سجدہ اسی طرف ہوگا جہاں سے میرے محبوب کا گزر ہوگا۔

تشریح

اس شعر میں شاعر روایتی مذہب، کفر اور ایمان کی باہمی بحثوں سے آزاد ہو کر عشق کے بے پایاں مرتبے کا اعلان کرتا ہے۔ وہ شیخ اور برہمن دونوں کو الوداع کہتے ہوئے واضح کرتا ہے کہ اس کی بندگی کسی رسم یا مسلک کی محتاج نہیں رہی۔ ایک سچے عاشق کے لیے کعبہ و دَیر کی کوئی قید نہیں؛ اس کا اصل قبلہ تو محبوب کے قدموں کی دھول ہے اور اس کا سجدہ وہیں ہوگا جدھر سے اس کا محبوب گزرے گا۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.