ہنسی رہ رہ کے آتی ہے یہ سب باتیں ہیں کہنے کی ہماری نعش پر اے سنگ دل تو چشم تر ہوگا

“Laughter grips me time and again, these are mere idle words to hear: That beside my lifeless corpse, O stone-heart, your eyes will shed a tear!”

— خواجہ رکن الدین عشق
معنی

مجھے بار بار ہنسی آتی ہے کیونکہ یہ سب صرف کہنے کی باتیں ہیں کہ اے سنگ دل، تو میری لاش پر آنسو بہائے گا۔

تشریح

شاعر اس شعر میں ایک تلخ اور گہری ہنسی کے ساتھ اپنے محبوب کی جھوٹی ہمدردی پر طنز کر رہا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ یہ محض کہنے کی باتیں ہیں کہ میرے مرنے پر وہ شخص روئے گا جس کا دل پتھر کا ہے، کیونکہ پتھر سے آنسو بہنا ناگزیر حد تک ناممکن ہے۔ یہ کیفیت اس وقت جنم لیتی ہے جب انسان مسلسل بے رخی اور دھوکے سے اس مقام پر پہنچ جائے جہاں رونے کے بجائے بے ساختہ ہنسی آنے لگتی ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.