غزل

دل پہ گزرے ہے دم بدم کیا کیا

دل پہ گزرے ہے دم بدم کیا کیا

یہ غزل محبت میں دل پر لمحہ بہ لمحہ گزرنے والی کیفیات اور غم و اندوہ کی پردرد ترجمانی کرتی ہے۔ اس میں محبوب کے پے در پے ستم اور عاشق کی بے قراری و اشک باری کے ساتھ دل کی بے بسی کا گہرا بیان ہے۔

Source: Kulliyat-e-Hazrat Ruknuddin Ishq (poems only) · HI

نغمہ سنیں
رسم الخط
1
दिल पे गुज़रे है दम-ब-दम क्या क्या लिख पे करता है वो सितम क्या क्या
دل پہ گزرے ہے دم بدم کیا کیا لِکھ پہ کرتا ہے وہ ستم کیا کیا
ہر لمحہ میرے دل پر کیا کیا گزرتی ہے، اور وہ میری تحریر پر کیا کیا ستم کرتا ہے۔
2
दिल जिगर चश्म अश्क हैं बे-ताब सर कटे लिखे ये क़लम क्या क्या
دل جگر چشم اشک ہیں بے تاب سر کٹے لکھے یہ قلم کیا کیا
دل، جگر، آنکھ اور آنسو سب بے قرار ہیں؛ قلم کا سر کٹ جانے کے بعد نہ جانے یہ کیا کیا لکھے گا۔
3
जो कुछ अब तुम कहो सो आमन्ना कोई कह सकते हैं ये हम क्या क्या
جو کچھ اب تم کہو سو آمَنّا کوئی کہہ سکتے ہیں یہ ہم کیا کیا
اب تم جو کچھ بھی کہو ہم اسے سر تسلیم خم کر کے مان لیتے ہیں، حالانکہ کہنے کو تو ہم بھی بہت کچھ کہہ سکتے ہیں۔
4
लाल-ओ-गौहर की क़द्र हो क्यूँ कर है तेरा फ़ैज़-ए-चश्म-ए-नम क्या क्या
لعل و گوہر کی قدر ہو کیوں کر ہے ترا فیض چشم نم کیا کیا
لعل اور موتیوں کی بھلا کیا قدر رہ جاتی ہے جب تمہاری نم آنکھوں کا فیض اس قدر بے پایاں اور قیمتی ہے۔
5
शुक्र इतना है जितनी नेमत है इश्क़ पर है तेरा करम क्या क्या
شکر اتنا ہے جتنی نعمت ہے عشق پر ہے ترا کرم کیا کیا
مجھے جتنی نعمتیں حاصل ہوئی ہیں میرا شکر بھی اسی قدر ہے، عشق پر آپ کے بے شمار اور عظیم احسانات ہیں۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.

دل پہ گزرے ہے دم بدم کیا کیا | Sukhan AI