“The heart, the liver, eye, and tear are all in restless strife; with severed head, what marvels shall this reed pen bring to life!”
دل، جگر، آنکھ اور آنسو سب بے قرار ہیں؛ قلم کا سر کٹ جانے کے بعد نہ جانے یہ کیا کیا لکھے گا۔
روایتی سرکنڈے کا قلم تبھی کچھ لکھ پاتا ہے جب اس کا سر کاٹ کر، یعنی نوک تراش کر اسے لکھنے کے قابل بنایا جائے۔ شاعر اپنے دل، جگر اور روتی ہوئی آنکھوں کے درد اور بے قراری کو بیان کر رہا ہے جو سنبھالے نہیں سنبھلتی۔ جس طرح قلم کا سر قلم ہونے کے بعد اس کی سیاہی سے شاہکار جنم لیتے ہیں، اسی طرح شاعر کا زخمی وجود اپنے اس تڑپتے ہوئے جذبے کو لازوال اشعار میں ڈھال رہا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
