“My gratitude is as vast as every bounty bestowed; how manifold and wondrous is your grace upon love!”
مجھے جتنی نعمتیں حاصل ہوئی ہیں میرا شکر بھی اسی قدر ہے، عشق پر آپ کے بے شمار اور عظیم احسانات ہیں۔
یہ شعر شکر گزاری اور وارفتگی کا ایک ایسا خوبصورت انداز ہے جہاں عاشق اپنے عشق پر محبوب یا خدا کی بے پایاں عنایتوں کو دیکھ کر دنگ رہ گیا ہے۔ یہاں محبت کے ہر تجربے کو، چاہے وہ وصل کی مسرت ہو یا ہجر کی تڑپ، ایک ایسی نعمت مانا گیا ہے جس کا جتنا شکر ادا کیا جائے کم ہے۔ مصرعے میں 'کیا کیا' کا لفظ اس حیرت اور خوشی کو سمیٹے ہوئے ہے جب کرم اس قدر بے حساب ہو کہ دل صرف شکر کے سجدے میں جھک جانا چاہتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
