جو کچھ اب تم کہو سو آمَنّا کوئی کہہ سکتے ہیں یہ ہم کیا کیا

“Whatever you say now, we submit and proclaim 'we believe' — though who could ever voice all the things that we could say?”

— خواجہ رکن الدین عشق
معنی

اب تم جو کچھ بھی کہو ہم اسے سر تسلیم خم کر کے مان لیتے ہیں، حالانکہ کہنے کو تو ہم بھی بہت کچھ کہہ سکتے ہیں۔

تشریح

اس شعر میں عاشق اپنے محبوب کے سامنے ایک پروقار اور دل سوز انداز میں سر تسلیم خم کرتا ہے، کہ اب تم جو کچھ بھی کہو ہمیں دل و جان سے قبول ہے۔ لیکن اس بظاہر خاموش رضامندی کے پیچھے ان کہے شکووں کا ایک گہرا طوفان چھپا ہے؛ یعنی ہمارے پاس بھی کہنے کو بہت سی باتیں تھیں، مگر تم سے بحث کون کرے۔ یہ تسلیم دراصل ہار نہیں بلکہ عشق کی وہ انتہا ہے جہاں چپ رہ جانا ہی سب سے گہرا اور باوقار جواب بن جاتا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.