“Why would rubies and pearls retain any worth, when such is the wondrous bounty of your weeping eyes?”
لعل اور موتیوں کی بھلا کیا قدر رہ جاتی ہے جب تمہاری نم آنکھوں کا فیض اس قدر بے پایاں اور قیمتی ہے۔
اس دلکش شعر میں شاعر نے محبت میں بہنے والے آنسوؤں کو لعل و گوہر یعنی نایاب موتیوں سے تشبیہ دی ہے۔ جب غمِ عشق سے نم آنکھیں اس قدر فیاضی کے ساتھ سچے اور چمکتے ہوئے آنسو نچھاور کر رہی ہوں، تو پھر دنیا کے ہیرے جواہرات کی بھلا کیا وقعت رہ جاتی ہے۔ یہ شعر دراصل اس جذبے کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہے جہاں درد کی دولت دنیاوی خزانوں سے کہیں زیادہ قیمتی اور معتبر ٹھہرتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
