غزل
اگر موقوف ہوتی دید کل پر
اگر موقوف ہوتی دید کل پر
یہ غزل عشق کی بے قراری، دیدار کی شدید تڑپ اور دل کے اضطراب کو بڑی خوبصورتی سے بیان کرتی ہے۔ اس میں محبت کے کٹھن سفر کے عزم اور تمنا و انتظار سے پیدا ہونے والے قلبی طوفان کی پردرد عکاسی کی گئی ہے۔
Source: Kulliyat-e-Hazrat Ruknuddin Ishq (poems only) · HI
نغمہ سنیں
1
अगर मौक़ूफ़ होती दीद कल पर
तो आज आँखों में ये तूफ़ाँ न होता
اگر موقوف ہوتی دید کل پر
تو آج آنکھوں میں یہ طوفاں نہ ہوتا
اگر دیدار یا ملاقات کل پر ملتوی کر دی گئی ہوتی، تو آج آنکھوں میں آنسوؤں کا یہ طوفان نہ ہوتا۔
2
न होता दिल को जो अज़्म-ए-सफ़र तो
जरस के तर्ज़ ये नालाँ न होता
نہ ہوتا دل کو جو عزم سفر تو
جرس کے طرز یہ نالاں نہ ہوتا
اگر دل میں سفر کا ارادہ نہ ہوتا تو یہ قافلے کی گھنٹی کی طرح اس طرح فریاد و زاری نہ کرتا۔
3
कोई काहे को सज्दा उन को करता
बुतों में हक़ अगर पिन्हाँ न होता
کوئی کاہے کو سجدہ ان کو کرتا
بتوں میں حق اگر پنہاں نہ ہوتا
اگر بتوں کے اندر حق پوشیدہ نہ ہوتا تو کوئی ان کو سجدہ کیوں کرتا؟
4
डुबाते ख़ाना-ए-मर्दुम को ये अश्क
अगर ये गोशा-ए-दामाँ न होता
ڈباتے خانۂ مردم کو یہ اشک
اگر یہ گوشۂ داماں نہ ہوتا
اگر میرے دامن کا یہ گوشہ نہ ہوتا تو میرے یہ آنسو لوگوں کے گھروں کو غرق کر دیتے۔
5
न होता हुस्न में यारो अगर जज़्ब
तो रंज-ए-इश्क़ भी आसाँ न होता
نہ ہوتا حُسن میں یارو اگر جذب
تو رنجِ عشق بھی آساں نہ ہوتا
اے دوستو! اگر حسن میں کشش نہ ہوتی تو عشق کا دکھ جھیلنا بھی آسان نہ ہوتا۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
