اگر موقوف ہوتی دید کل پر تو آج آنکھوں میں یہ طوفاں نہ ہوتا

“Had the vision been deferred until tomorrow, this tempest would not rage within my eyes today.”

— خواجہ رکن الدین عشق
معنی

اگر دیدار یا ملاقات کل پر ملتوی کر دی گئی ہوتی، تو آج آنکھوں میں آنسوؤں کا یہ طوفان نہ ہوتا۔

تشریح

اس شعر میں شاعر محبوب کے دیدار کے بعد دل اور نگاہ میں برپا ہونے والے اضطراب کو بڑی خوبصورتی سے پیش کر رہے ہیں۔ عام طور پر انسان سمجھتا ہے کہ محبوب کو دیکھ کر دل کو قرار مل جائے گا، مگر یہاں اس ایک جھلک نے آنکھوں میں بے چینی اور آنسوؤں کا طوفان کھڑا کر دیا ہے۔ شاعر حسرت بھرے انداز میں کہتا ہے کہ کاش یہ دیدار کل پر ٹل گیا ہوتا، تو آج آنکھیں اس شدید تلاطم اور بے بسی کا شکار نہ ہوتیں۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.