کوئی کاہے کو سجدہ ان کو کرتا
بتوں میں حق اگر پنہاں نہ ہوتا
“Why would anyone prostrate before them in devotion, had the Divine not been concealed within the idols?”
— خواجہ رکن الدین عشق
معنی
اگر بتوں کے اندر حق پوشیدہ نہ ہوتا تو کوئی ان کو سجدہ کیوں کرتا؟
تشریح
یہ شعر تصوف کے فلسفۂ وحدت الوجود کی خوبصورت ترجمانی کرتا ہے، جہاں کائنات کی ہر شے میں خدا کا جلوہ نظر آتا ہے۔ شاعر کا کہنا ہے کہ انسان اگر بتوں یا دنیاوی حسن کے آگے سر جھکاتا ہے تو یہ فقط بت پرستی نہیں، بلکہ ان کے اندر پوشیدہ نورِ حق کی کشش ہے۔ یعنی ہر سچے عشق اور سجدے کا اصل مرکز و محور درحقیقت وہی ایک ذات ہے جو ہر روپ میں جلوہ گر ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
