غزل
کبیر سنگرہ 91-97
کبیر سنگرہ 91-97
کبیر کے یہ دوہے انا اور شک کو دکھ اور بیماری کی جڑ قرار دیتے ہیں۔ وہ ظاہری پہچان (ذات) کی بجائے علم کو اہمیت دینے کا مشورہ دیتے ہیں، بالکل اسی طرح جیسے تلوار کو میان سے زیادہ قیمتی سمجھا جاتا ہے۔ کبیر دنیاوی تعلقات سے آزادی کی مشکل اور حقیقی روحانی سمجھ کی جدوجہد کو بھی اجاگر کرتے ہیں۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
जहाँ आप तहाँ आपदा , जहाँ संशय तहाँ रोग। कह कबीर यह क्यों मिटैं , चारों बाधक रोग॥ 194॥
جہاں آپ تھا وہاں آفت، جہاں شبہ تھا وہاں بیماری۔ شاعر کबीर پوچھتے ہیں کہ یہ چار رکاوٹیں (آفت، شبہ، بیماری) کیوں ختم ہوں۔
2
जाति न पूछो साधु की , पूछि लीजिए ज्ञान। मोल करो तलवार का , पड़ा रहन दो म्यान॥ 195॥
साधु سے نسل کے بارے میں نہیں پوچھنا چاہیے، بلکہ ان کے علم کے بارے میں پوچھنا چاہیے۔ جیسے قیمتی تلوار کی قدر کرنی چاہیے، نہ کہ خالی مانی کے۔
3
जल की जमी में है रोपा , अभी सींचें सौ बार। कबिरा खलक न तजे , जामे कौन वोचार॥ 196॥
جل کی زمیں میں ہے روپا، ابھی سینچیں سو بار۔ کبیرا خلق نہ تجے، جامے کون وہچار۔
4
जहाँ ग्राहक तँह मैं नहीं , जँह मैं गाहक नाय। बिको न यक भरमत फिरे , पकड़ी शब्द की छाँय॥ 197॥
جہاں میں گاہک نہیں، جہاں میں خریدار نہیں۔ میں ایک بھی چیز نہیں بیچوں گا، جو بس گھوم رہی ہے، الفاظ کا سایہ لیے ہوئے۔
5
झूठे सुख को सुख कहै , मानता है मन मोद। जगत चबेना काल का , कुछ मुख में कुछ गोद॥ 198॥
یہ دل جھوٹے دکھ کو خوشی سمجھ کر فریب میں رہتا ہے، اور یہ دنیا وقت کے منہ اور گود جیسی ہے۔
6
जो तु चाहे मुक्ति को , छोड़ दे सबकी आस। मुक्त ही जैसा हो रहे , सब कुछ तेरे पास॥ 199॥
اگر تم آزادی چاہتے ہو، تو تمام آساں کو چھوڑ دو۔ جیسے ہی تم آزاد ہو رہے ہو، سب کچھ تمہارے پاس ہے۔
7
जो जाने जीव आपना , करहीं जीव का सार। जीवा ऐसा पाहौना , मिले न दीजी बार॥ 200॥
جو جانتا ہے اپنا جی، اور جانتا ہے جینے کا سارا۔ ایسا جی دیکھنا، نہ ملے گی کبھی بار۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
