Sukhan AI
जाति न पूछो साधु की , पूछि लीजिए ज्ञान। मोल करो तलवार का , पड़ा रहन दो म्यान॥ 195॥

Do not ask about a saint's caste, ask for his knowledge. Value the sword, and leave the scabbard alone.

کبیر
معنی

साधु سے نسل کے بارے میں نہیں پوچھنا چاہیے، بلکہ ان کے علم کے بارے میں پوچھنا چاہیے۔ جیسے قیمتی تلوار کی قدر کرنی چاہیے، نہ کہ خالی مانی کے۔

تشریح

Kabir کا یہ شعر ہمیں ظاہری پہچان کی بجائے، اصل خوبیوں پر توجہ دینے کا درس دیتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ کسی بھی شخص کی ذات پوچھنے سے بہتر ہے کہ اس کے علم اور گyan کو جانیں۔ تلوار اور مَیان کا استعارہ بہت گہرا ہے؛ یہ ظاہر کرتا ہے کہ اصل قدر تو تیز، کارآمد تلوار میں ہے، نہ کہ اس کے صرف کور میں۔ کبیر ہمیں سکھاتے ہیں کہ انسان کی اصل حیثیت اس کے اندرونی علم اور کردار میں پنہاں ہوتی ہے، نہ کہ اس کی نسل یا رنگ میں۔

آڈیو

تلاوت
ہندی معنیIn app
انگریزی معنیIn app
ہندی تشریحIn app
انگریزی تشریحIn app
← Prev92 / 7