Sukhan AI
जल की जमी में है रोपा , अभी सींचें सौ बार। कबिरा खलक न तजे , जामे कौन वोचार॥ 196॥

A sapling has been planted in the soil of water; it must be watered a hundred times. When will the world, O Kabir, cease its delusion?

کبیر
معنی

جل کی زمیں میں ہے روپا، ابھی سینچیں سو بار۔ کبیرا خلق نہ تجے، جامے کون وہچار۔

تشریح

اس شعر میں کबीर ने ایک گہرے روحانی استعارہ کا استعمال کیا ہے۔ 'जल کی زمیں' اس دل یا ماحول کی طرف اشارہ کرتی ہے جو ظاہری طور پر سیراب ہے مگر اندر سے غیر مستحکم ہے۔ کبیر کہتے ہیں کہ اس جوان پودے کو اگنے کے لیے مسلسل محنت اور مسلسل پرورش (سو بار سینچنا) کی ضرورت ہے۔ یہ شعر انسان کے اندر کی پاکیزگی کو جگانے کے لیے مسلسل ریاضت اور ہوشیاری کی اہمیت پر روشنی ڈالتا ہے۔

آڈیو

تلاوت
ہندی معنیIn app
انگریزی معنیIn app
ہندی تشریحIn app
انگریزی تشریحIn app
← Prev93 / 7