Sukhan AI
غزل

کبیر سنگرہ 11-20

کبیر سنگرہ 11-20
کبیر· Ghazal· 10 shers

کبیر کی یہ غزل صبر، گرو کی گہری اہمیت اور نجات کے لیے خدا کی بھکتی کی ضرورت پر زور دیتی ہے۔ یہ دنیاوی مشاغل اور نیند میں زندگی برباد کرنے سے منع کرتی ہے، اور موت آنے سے پہلے ہری کا نام لینے کی تاکید کرتی ہے، کیونکہ صرف روحانی مشق ہی حقیقی اہمیت رکھتی ہے۔

نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
धीरे-धीरे रे मना , धीरे सब कुछ होयमाली सींचे सौ घड़ा , ॠतु आए फल होय
دھیری دھیری رے منا، سب کچھ دھیری دھیری ہو گا۔ جیسے مالی سو گھڑے پانی سے سینچے گا، پھل تو صرف موسم آنے پر ہی پکتا ہے۔
2
कबीरा ते नर अन्ध है , गुरु को कहते औरहरि रूठे गुरु ठौर है , गुरु रुठै नहीं ठौर
کبیرا کہتے ہیں کہ انسان اندھا ہے، جو گرو کو پکارتا ہے۔ رب ناراض ہے، مگر گرو کا مقام نہیں؛ گرو ناراض ہے، مگر یہ جگہ نہیں۔
3
पाँच पहर धन्धे गया , तीन पहर गया सोयएक पहर हरि नाम बिन , मुक्ति कैसे होय
پانچ پہر دن گئے، تین پہر سوئے۔ ایک پہر ہرے نام بن، مکتی کیسے ہوے۔
4
कबीरा सोया क्या करे , उठि भजे भगवानजम जब घर ले जायेंगे , पड़ी रहेगी म्यान
کبیرا سو گیا تو کیا کرے، اور خدا کو نہیں جگایا؟ جب یم اسے گھر لے جائیں گے، تو قبضے میں رہ جائے گا۔
5
शीलवन्त सबसे बड़ा , सब रतनन की खानतीन लोक की सम्पदा , रही शील में आन
شیلونت سب سے بڑا ہے، اور وہ تمام جواہرات کا ذخیرہ ہے۔ تین جہانوں کی دولت شیل (اچھے اخلاق) میں موجود ہے۔
6
माया मरी मन मरा , मर-मर गए शरीरआशा तृष्णा मरी , कह गए दास कबीर
اس کا لغوی مطلب ہے کہ نہ تو مایا (بھرم) مرئی، نہ من مریا، صرف جسم فنا ہوا۔ امید اور آرزو بھی نہیں مریں، ایسا दास कबीर کہتے ہیں۔
7
माटी कहे कुम्हार से , तु क्या रौंदे मोयएक दिन ऐसा आएगा , मैं रौंदूंगी तोय
مٹی، کوزے سے کہتی ہے، 'تم مجھے کیوں روندتے ہو؟ ایک دن ایسا آئے گا کہ میں تمہیں روندوں گی۔'
8
रात गंवाई सोय के , दिवस गंवाया खायहीना जन्म अनमोल था , कोड़ी बदले जाय19
رات سوتے ہوئے ضائع کر دی، دن کھا کر ضائع کر دیا۔ یہ زندگی بہت انمول ہے اور اسے ایک معمولی سکے کے بدلے نہیں کیا جا سکتا۔
9
नींद निशानी मौत की , उठ कबीरा जागऔर रसायन छांड़ि के , नाम रसायन लाग20
نیند موت کی نشانی ہے، کبیرا، جاگو۔ اور تمام کیمیاوی ادویات کو چھوڑ کر، نام کو ہی حقیقی اکسیر بنا لو۔
10
जो तोकु कांटा बुवे , ताहि बोय तू फूलतोकू फूल के फूल है , बाकू है त्रिशूल21
اگر تم کاٹھے کو اکھاڑ کر اس کی جگہ پھول لگا دو۔ تو تمہارا پھول تو پھول ہے، مگر تمہارا ترشول (ہتھیار) ہے۔
Comments

Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.

0

No comments yet.