“The night was wasted by sleeping, the day by eating. This precious life is priceless, it cannot be exchanged for a mere coin.”
رات سوتے ہوئے ضائع کر دی، دن کھا کر ضائع کر دیا۔ یہ زندگی بہت انمول ہے اور اسے ایک معمولی سکے کے بدلے نہیں کیا جا سکتا۔
Kabir اس شعر میں وقت کی قیمتی قدر کا ایک گہرا پیغام دیتے ہیں۔ انہوں نے نیند کو راتوں کی بربادی اور کھانے کو دنوں کی ضیاع سے تشبیہ دی ہے، جو ہماری زندگی کے معمولی استعمال کی عکاسی کرتا ہے۔ اس شعر میں جذبہ ایک ہلکی سی جلدی کا ہے؛ وہ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ یہ زندگی کسی بھی معمولی سکے سے کہیں زیادہ قیمتی ہے۔ یہ ہمیں باشعوری اور روحانی زندگی گزارنے کی ترغیب ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
