Sukhan AI
माया मरी न मन मरा , मर-मर गए शरीर। आशा तृष्णा न मरी , कह गए दास कबीर॥

The illusion (Maya) did not die, nor did the mind; only the body perished. Hope and desire did not die, only said Kabir's devotee.

کبیر
معنی

اس کا لغوی مطلب ہے کہ نہ تو مایا (بھرم) مرئی، نہ من مریا، صرف جسم فنا ہوا۔ امید اور آرزو بھی نہیں مریں، ایسا दास कबीर کہتے ہیں۔

تشریح

جب کबीर اس شعر کو کہتے ہیں تو وہ صرف جسمانی موت کی بات نہیں کر رہے ہوتے۔ وہ اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ جسم کا فنا ہونا بھی ایک عارضی حقیقت ہے۔ ان کے نزدیک، اصل جنگ تو دل میں رچ بسے ہوئے تعلقات اور خواہشات سے ہے۔ یہ کلام ہمیں سکھاتا ہے کہ حقیقی آزادی جسم کی موت میں نہیں، بلکہ اپنے اندر کی بے چینی کو قابو کرنے میں ہے۔

آڈیو

تلاوت
ہندی معنیIn app
انگریزی معنیIn app
ہندی تشریحIn app
انگریزی تشریحIn app
← Prev16 / 10
माया मरी न मन मरा , मर-मर गए शरीर। आशा तृष्णा न मरी , कह गए दास कबीर॥ | Sukhan AI