غزل

وہ جو روٹھیں یوں منانا چاہیئے

وہ جو روٹھیں یوں منانا چاہیئے
جگر مرادآبادی· Ghazal· 6 shers· radif: चाहिए

یہ غزل عشق میں کامل خود سپردگی اور ایثار کے گہرے جذبات کی ترجمان ہے۔ شاعر کے نزدیک محبوب کی خفگی دور کرنے کے لیے خود زندگی سے منہ موڑ لینا اور خنجر کے سائے تلے بھی مسکرا کر جان قربان کرنا ہی سچی محبت کی انتہا ہے۔

Source: rekhta · HI

نغمہ سنیں

شعر بہ شعر معنی

رسم الخط
1
वो जो रूठें यूँ मनाना चाहिए ज़िंदगी से रूठ जाना चाहिए
وہ جو روٹھیں یوں منانا چاہیئے زندگی سے روٹھ جانا چاہیئے
اگر محبوب روٹھ جائے تو اسے اس طرح منانا چاہیے کہ انسان اپنی زندگی سے ہی روٹھ جائے۔
2
हिम्मत-ए-क़ातिल बढ़ाना चाहिए ज़ेर-ए-ख़ंजर मुस्कुराना चाहिए
ہمت قاتل بڑھانا چاہیئے زیر خنجر مسکرانا چاہیئے
قاتل کے حوصلے کو بڑھانا چاہیے اور خنجر کے نیچے بھی مسکرانا چاہیے۔
3
ज़िंदगी है नाम जोहद ओ जंग का मौत क्या है भूल जाना चाहिए
زندگی ہے نام جہد و جنگ کا موت کیا ہے بھول جانا چاہیئے
زندگی مسلسل جدوجہد اور کوشش کا نام ہے، اور انسان کو یہ بھول جانا چاہیے کہ موت کیا چیز ہے۔
4
है इन्हीं धोकों से दिल की ज़िंदगी जो हसीं धोका हो खाना चाहिए
ہے انہیں دھوکوں سے دل کی زندگی جو حسیں دھوکا ہو کھانا چاہیئے
دل کی زندگی انہی فریبوں کے دم سے قائم ہے؛ اگر کوئی دھوکا خوبصورت ہو تو اسے خوشی سے کھا لینا چاہیے۔
5
लज़्ज़तें हैं दुश्मन-ए-औज-ए-कमाल कुल्फ़तों से जी लगाना चाहिए
لذتیں ہیں دشمن اوج کمال کلفتوں سے جی لگانا چاہیئے
عیش و آرام انسان کو بلندی اور کمال کے درجے پر پہنچنے سے روکتے ہیں، اس لیے انسان کو سختیوں اور مشقتوں سے دل لگانا چاہیے۔
6
उन से मिलने को तो क्या कहिए 'जिगर' ख़ुद से मिलने को ज़माना चाहिए
ان سے ملنے کو تو کیا کہئے جگرؔ خود سے ملنے کو زمانا چاہیئے
اے جگر، محبوب سے ملنے کی تو بات ہی کیا کرنی، انسان کو تو اپنے آپ سے ملنے اور خود کو جاننے کے لیے بھی ایک زمانہ درکار ہوتا ہے۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.