ان سے ملنے کو تو کیا کہئے جگرؔ — جگر مرادآبادی
“What to speak of meeting the beloved, O Jigar; it takes an entire age just to meet oneself.”
معنی
اے جگر، محبوب سے ملنے کی تو بات ہی کیا کرنی، انسان کو تو اپنے آپ سے ملنے اور خود کو جاننے کے لیے بھی ایک زمانہ درکار ہوتا ہے۔
تشریح
جگر مراد آبادی نے اس شعر میں روایتی عشق کو ایک گہرے باطنی سفر سے جوڑ دیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ محبوب سے ملنے کی تمنا تو بعد کا مرحلہ ہے، انسان کو اپنے ہی بکھرے ہوئے وجود کو سمیٹنے اور خود سے روبرو ہونے میں ایک زمانہ بیت جاتا ہے۔ عشق کا اصل آغاز ہی تب ہوتا ہے جب انسان خود شناسی کی اس کٹھن راہ سے گزر کر پہلے اپنے آپ سے مل لے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
