غزل
کیا برابر کا محبت میں اثر ہوتا ہے
کیا برابر کا محبت میں اثر ہوتا ہے
یہ غزل یک طرفہ محبت کے درد اور دلی بے بسی کو خوبصورتی سے بیان کرتی ہے۔ شاعر محبت میں جذبوں کے عدم توازن پر سوال اٹھاتے ہوئے محبوب کی بے رخی اور دعاؤں کے بے اثر ہونے کا گلہ کرتا ہے۔
Source: rekhta · HI
نغمہ سنیں
1
क्या बराबर का मोहब्बत में असर होता है
दिल इधर होता है ज़ालिम न उधर होता है
کیا برابر کا محبت میں اثر ہوتا ہے
دل ادھر ہوتا ہے ظالم نہ ادھر ہوتا ہے
کیا محبت کا اثر دونوں طرف برابر ہوتا ہے؟ اے ظالم، یہ دل نہ ادھر کا رہتا ہے اور نہ ادھر کا۔
2
हम ने क्या कुछ न किया दीदा-ए-दिल की ख़ातिर
लोग कहते हैं दुआओं में असर होता है
ہم نے کیا کچھ نہ کیا دیدۂ دل کی خاطر
لوگ کہتے ہیں دعاؤں میں اثر ہوتا ہے
ہم نے دل کی چاہت اور تمنا کی خاطر ہر جتن اور دعا کر دیکھی، اس پر بھی لوگ کہتے ہیں کہ دعاؤں میں اثر ہوتا ہے۔
3
दिल तो यूँ दिल से मिलाया कि न रक्खा मेरा
अब नज़र के लिए क्या हुक्म-ए-नज़र होता है
دل تو یوں دل سے ملایا کہ نہ رکھا میرا
اب نظر کے لیے کیا حکم نظر ہوتا ہے
آپ نے دل کو دل سے اس طرح ملایا کہ میرا دل میرے پاس رہنے ہی نہ دیا؛ اب دیکھتے ہیں کہ نظر کے لیے کیا حکم صادر ہوتا ہے۔
4
मैं गुनहगार-ए-जुनूँ मैं ने ये माना लेकिन
कुछ उधर से भी तक़ाज़ा-ए-नज़र होता है
میں گنہ گار جنوں میں نے یہ مانا لیکن
کچھ ادھر سے بھی تقاضائے نظر ہوتا ہے
میں یہ مانتا ہوں کہ عشق کے جنون میں، میں قصوروار ہوں، لیکن کچھ نظر کا تقاضا اور اشارہ اُس طرف سے بھی ہوتا ہے۔
5
कौन देखे उसे बेताब-ए-मोहब्बत ऐ दिल
तू वो नाले ही न कर जिन में असर होता है
کون دیکھے اسے بیتاب محبت اے دل
تو وہ نالے ہی نہ کر جن میں اثر ہوتا ہے
اے دل، محبوب کو محبت میں بے چین کون دیکھ سکتا ہے؟ اس لیے تو ایسی فریادیں ہی مت کر جن کا اس پر کوئی اثر ہو۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
