“You joined heart to heart in such a way that mine was spared no more; now let us see what decree is pronounced upon the gaze.”
آپ نے دل کو دل سے اس طرح ملایا کہ میرا دل میرے پاس رہنے ہی نہ دیا؛ اب دیکھتے ہیں کہ نظر کے لیے کیا حکم صادر ہوتا ہے۔
اس شعر میں محبت کی مکمل وارفتگی کا دلکش بیان ہے، جہاں محبوب نے دل کو کچھ اس طرح اپنا بنا لیا کہ عاشق کا اپنا دل ہی اس کے پاس نہ رہا۔ جب دل پوری طرح ہار دیا گیا، تو اب عاشق بڑے پیار اور تسلیم و رضا کے ساتھ منتظر ہے کہ اس کی آنکھوں کے لیے نگاہِ محبوب کا کیا فیصلہ ہوتا ہے۔ یعنی جس نے دل پر مکمل قبضہ کر لیا ہے، وہ اب آنکھوں کو دیدار کی اجازت بخشتا ہے یا نظریں جھکا لینے کا فرمان جاری کرتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
