“I confess I am guilty of passion's madness, yet from that side too comes the demand of a beckoning glance.”
میں یہ مانتا ہوں کہ عشق کے جنون میں، میں قصوروار ہوں، لیکن کچھ نظر کا تقاضا اور اشارہ اُس طرف سے بھی ہوتا ہے۔
اس شعر میں عاشق اپنے عشق کے جنون اور دیوانگی کا اعتراف تو مسکرا کر کر لیتا ہے، مگر ساتھ ہی ایک پیارا سا شکوہ بھی جڑ دیتا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اگر وہ حد سے گزر رہا ہے تو سارا قصور اس کا تنہا نہیں، محبوب کی پرکشش نگاہیں بھی تو بار بار اسے اپنی طرف متوجہ کر رہی ہیں۔ یہ ایک دلکش اور والہانہ انداز ہے یہ بتانے کا کہ محبت یک طرفہ نہیں بلکہ دونوں طرف سے پنپ رہی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
