Sukhan AI
غزل

لشکرِ کَال آ گئے

لشکرِ کَال آ گئے

یہ غزل ایک ایسی تحریک کی عکاسی کرتی ہے جہاں ملک کے کونے کونے سے لوگ—کھیتوں، جنگلوں، سمندروں اور پہاڑوں سے—ایک گہری پکار سن کر اکٹھے ہوئے ہیں۔ وہ 'کانٹوں کا مقدس تاج' پہن کر آتے ہیں، جو قربانی کی علامت ہے، اور ان کا پختہ ارادہ مظلوموں اور پسماندہ طبقات کے لیے ایک حکمرانی قائم کرنا ہے۔ یہ انصاف کے ایک نئے دور کو شروع کرنے والی ایک پرعزم قوت کی بات کرتی ہے۔

نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
અમે ખેતરથી, વાડીઓથી, જંગલ ને ઝાડીઓથી
ہم کھیتوں سے، باغوں سے، جنگل اور جھاڑیوں سے ہیں۔
2
સાગરથી, ગિરિવરથી, સુણી સાદ આવ્યાં.
سمندر سے اور پہاڑوں سے، آواز سن کر وہ آئے۔
3
અમે કંટકનો પુનિત તાજ પહેરી શિર પરે આજ,
آج ہم نے اپنے سر پر کانٹوں کا مقدس تاج پہنا ہے۔
4
પીડિત દલિતોનું રાજ રચવાને આવ્યાં.
وہ مظلوموں اور دلتوں کا راج قائم کرنے آئے ہیں۔
5
અમે જુગજુગ કેરાં કંગાલ માંગી નરકોનાં દ્વાર
ہم صدیوں سے کنگال ہیں اور دوزخ کے دروازے مانگتے ہیں۔
6
દેતાં ડગ એક તાલ ધરણી પર આવ્યાં.
ایک تال پر قدم رکھتے ہی وہ زمین پر آ گئے۔
7
અમે નૂતન શક્તિને ભાન નૂતન શ્રદ્ધાનું ગાન
ہمیں نئی طاقت کا شعور ہے، اور نئے ایمان کا نغمہ ہے۔
8
ગાતાં ખુલ્લી જબાન નવલા સૂર લાવ્યાં.
کھلی زبان سے گاتے ہوئے، وہ نئے سُر لائے۔
9
દેખ દેખ, રે અંધ! કાળ-સૈન્ય આવ્યાં.
دیکھو، دیکھو، اے اندھے! موت کی فوج آ گئی ہے۔
Comments

Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.

0

No comments yet.