“The reign of the oppressed and the downtrodden, to establish, they came.”
وہ مظلوموں اور دلتوں کا راج قائم کرنے آئے ہیں۔
یہ مصرع ایک گہرے سماجی تبدیلی کی بات کرتا ہے، جہاں طویل عرصے سے مظلوم اور پسماندہ لوگوں کے لیے ایک نئے دور کا آغاز کرنے کا ارادہ کیا گیا ہے۔ اس میں ایسے لوگوں کی حکمرانی قائم کرنے کا خیال ہے جو صدیوں سے حاشیے پر دھکیلے گئے تھے تاکہ انہیں انصاف اور عزت مل سکے۔ یہ صرف اقتدار کی تبدیلی کی بات نہیں، بلکہ ایک ایسے معاشرے کی تشکیل کا تصور ہے جہاں مظلوموں اور پسماندہ طبقوں کی آوازیں اور تجربات سب سے اہم ہوں۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
